مسئلہ آج مرے عشق کا تو حل کر دے

فرحت ندیم ہمایوں

مسئلہ آج مرے عشق کا تو حل کر دے

فرحت ندیم ہمایوں

MORE BYفرحت ندیم ہمایوں

    مسئلہ آج مرے عشق کا تو حل کر دے

    پیار کر ٹوٹ کے مجھ سے مجھے پاگل کر دے

    لوٹ لے میرا سکوں اور مجھے بے کل کر دے

    یوں سمٹ آ مری بانہوں میں انہیں شل کر دے

    دیکھ کر پہلی نظر میں جو امڈ آئے تھے

    پھر سے جذبات میں پیدا وہی ہلچل کر دے

    بن کے گھنگھور گھٹا مجھ پہ تو چھا کھل کے برس

    خشک صحرا کو مرے جسم کے جل تھل کر دے

    کس طرح وقت گزرتا ہے پتہ ہی نہ چلے

    ابتدا آج سے کر اور اسے کل کر دے

    تیرے بن مجھ کو ادھورا سا لگے اپنا وجود

    یوں سما مجھ میں مرا جسم مکمل کر دے

    جھیل آنکھوں کی مری جان ذرا صدقہ اتار

    اور مرے نام تو آنکھوں کا یہ کاجل کر دے

    اور کچھ تجھ سے نہیں مانگتا اے جان حیات

    وقت بس میرے لیے اپنا ہر اک پل کر دے

    چاہتا ہوں کہ نہ دیکھیں تجھے دنیا والے

    صرف پردے کے لیے سامنے آنچل کر دے

    قبل اس کے مجھے جھلسا دے غموں کا سورج

    مجھ پہ تو اپنی سیہ زلفوں کا بادل کر دے

    میرے اللہ نظر بھر کے اسے دیکھ تو لوں

    پھر تو چاہے مری آنکھوں کو مقفل کر دے

    ڈوب جاؤں میں ترے عشق سمندر میں ندیمؔ

    اپنی سانسوں سے مری سانسوں کو بوجھل کر دے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY