مشورے پر نہ کہیں دھوپ کے چلنے لگ جائیں

احتشام حسن

مشورے پر نہ کہیں دھوپ کے چلنے لگ جائیں

احتشام حسن

MORE BYاحتشام حسن

    مشورے پر نہ کہیں دھوپ کے چلنے لگ جائیں

    آدمی موم بنیں اور پگھلنے لگ جائیں

    جیسے ماحول بدل دیتی ہے مسکان تری

    پیرہن دیکھ کے موسم نہ بدلنے لگ جائیں

    اس قدر بغض دلوں میں ہے کہ معلوم نہیں

    لوگ کب کس کے لیے زہر اگلنے لگ جائیں

    دیکھ کر رونق بازار میں بچوں کا صبر

    اب یہ خطرہ ہے کھلونے نہ مچلنے لگ جائیں

    ہم بھی گلشن سے نکل جائیں گے خاموشی سے

    نئے پودے تو ذرا پھولنے پھلنے لگ جائیں

    موت ہے بھوک ہے کرتب ہے کہ کیا ہے جب لوگ

    دو ستونوں سے بندھی تار پہ چلنے لگ جائیں

    تم بتانا کہ حسنؔ خواب نہیں سچ ہے یہ

    ہم تمہیں دیکھ کے جب آنکھ مسلنے لگ جائیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY