مسلک عشق میں جائز ہے جفا رہنے دے

سید غافر رضوی فلک چھولسی

مسلک عشق میں جائز ہے جفا رہنے دے

سید غافر رضوی فلک چھولسی

MORE BYسید غافر رضوی فلک چھولسی

    مسلک عشق میں جائز ہے جفا رہنے دے

    مجھ کو محبوب کی چوکھٹ پہ پڑا رہنے دے

    عالم نزع میں سایہ ہو گھنی زلفوں کا

    اپنے چہرہ پہ نگاہوں کو جما رہنے دے

    ہم نے کانٹوں سے نکالا ہے ادب کو ظالم

    حلقۂ ذوق کو پھولوں سے سجا رہنے دے

    تیری نظروں سے چلا تیر لگا ہے دل پر

    اس بہانے ہی سہی پھول کھلا رہنے دے

    نام لینا بھی ہے دوبھر یہ وفا کیسی ہے

    شاق ہے دل پہ بہت ایسی سزا رہنے دے

    میرے زخموں کا مداوا ہے دعائیں تیری

    کم سے کم نام ہی ہونٹوں پہ سجا رہنے دے

    تیری مسکان میں پنہاں ہے ہماری ہستی

    اپنے ہونٹوں پہ تبسم کو ذرا رہنے دے

    عکس آنکھوں میں بسانے کی اجازت دے دے

    اپنی یادوں کا دیا دل میں جلا رہنے دے

    دوش مکار اٹھائے جو جنازہ میرا

    اس سے بہتر ہے کہ مقتل میں پڑا رہنے دے

    مشرب دید کا شیدائی فلکؔ کہتا ہے

    جام الفت میں تمنا کو ملا رہنے دے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY