موج نسیم صبح نہ جوش نمو سے تھا

راغب مرادآبادی

موج نسیم صبح نہ جوش نمو سے تھا

راغب مرادآبادی

MORE BYراغب مرادآبادی

    موج نسیم صبح نہ جوش نمو سے تھا

    جو پھول سرخ رو تھا خزاں کے لہو سے تھا

    تیرے سکوت نے اسے ویران کر دیا

    دل باغ باغ تھا تو تری گفتگو سے تھا

    اب دل کے رہ گزار میں وہ چاندنی کہاں

    اپنا بھی ربط و ضبط کسی ماہ رو سے تھا

    مدت ہوئی کہ دل کا وہ گلشن اجڑ گیا

    شاداب جو ترے نفس مشکبو سے تھا

    خواب و خیال ہیں وہ نشاط آفرینیاں

    رقص بہار دل میں تری آرزو سے تھا

    سوئے ادب کہوں کہ اسے بے تکلفی

    راغبؔ بجائے آپ مخاطب وہ تو سے تھا

    مأخذ :
    • کتاب : Ghazal Calendar-2015 (Pg. 23.05.2015)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY