مزہ وصال کا کیا گر فراق یار نہ ہو

امام بخش ناسخ

مزہ وصال کا کیا گر فراق یار نہ ہو

امام بخش ناسخ

MORE BYامام بخش ناسخ

    مزہ وصال کا کیا گر فراق یار نہ ہو

    نہیں ہے نشے کی کچھ قدر اگر خمار نہ ہو

    نہ روئے تا کوئی عاشق یہ حکم ہے اس کا

    کہ شمع بھی مری محفل میں اشک بار نہ ہو

    جو ہچکی آئی تو خوش میں ہوا کہ موت آئی

    کسی کو یار کا اتنا بھی انتظار نہ ہو

    ذقن ہے سیب تو عناب ہے لب شیریں

    نہیں ہے سرو وہ خوش قد جو میوہ دار نہ ہو

    وہ ہوں میں مورد نفرت کہ درکنار ہے یار

    پئے فشار کبھی گور ہم کنار نہ ہو

    نہ آئے کنج لحد میں بھی مجھ کو خواب عدم

    اگر سرہانے کوئی خشت کوئے یار نہ ہو

    برنگ حسن بتاں ہے دل شگفتہ مرا

    جو اس چمن میں خزاں ہو تو پھر بہار نہ ہو

    گئی ہے کیسی زمانے سے رسم سرگرمی

    عجب نہیں ہے جو پتھر میں بھی شرار نہ ہو

    نہ ہنسنے سے کبھی ہم راز پوش واقف ہوں

    برنگ غنچہ جگر جب تلک فگار نہ ہو

    تری مژہ کی جو تشبیہ اس سے ترک کریں

    کسی کے تیر سے کوئی کبھی فگار نہ ہو

    دم اخیر تو کر لیں نظارہ جی بھر کے

    الٰہی خنجر سفاک آب دار نہ ہو

    یہی ہے قلزم غم میں مری دعا یا رب

    قیام اس میں کوئی بھی حباب دار نہ ہو

    وہ صبح سینۂ صد چاک میں ہے داغ جنوں

    کہ جس سے دیدۂ خورشید بھی دو چار نہ ہو

    ہوس عروج کی لے جائیں گر یہ دنیا سے

    کبھی بلند ہوا سے کوئی غبار نہ ہو

    کمال صورت بے درد سے تنفر ہے

    نہ دیکھیں ہم کبھی اس گل کو جس میں خار نہ ہو

    ہزاروں گور کی راتیں ہیں کاٹنی ناسخؔ

    ابھی تو روز سیہ میں تو بے قرار نہ ہو

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY