مذاق عشق سے میں شرمسار ہو نہ سکا

مخمور جالندھری

مذاق عشق سے میں شرمسار ہو نہ سکا

مخمور جالندھری

MORE BYمخمور جالندھری

    مذاق عشق سے میں شرمسار ہو نہ سکا

    کہ راز داں بھی مرا رازدار ہو نہ سکا

    نظر سے ذروں کو الٹا گلوں کو چاک کیا

    مگر میں سر خوش دیدار یار ہو نہ سکا

    شباب و عشق کی کل عمر ایک لمحہ تھی

    مجھے یہ لمحہ مگر سازگار ہو نہ سکا

    بجائے خود مری ہستی کو کر دیا عریاں

    وہ پردہ دار مرا پردہ دار ہو نہ سکا

    وہ کس بھروسہ پر امیدوار ہو تیرا

    تری نظر پہ جسے اعتبار ہو نہ سکا

    ملاحظہ ہو محبت کا ذوق نظارہ

    جو آشکار تھا وہ آشکار ہو نہ سکا

    مرا مآل بھی ہوتا چمن سا عبرت ناک

    جنوں کا شکر کہ وقف بہار ہو نہ سکا

    نگاہ مست کا ممنون کیف ہوں مخمورؔ

    کہ پی تو خوب مگر بادہ خوار ہو نہ سکا

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY