تاروں بھری پلکوں کی برسائی ہوئی غزلیں

بشیر بدر

تاروں بھری پلکوں کی برسائی ہوئی غزلیں

بشیر بدر

MORE BYبشیر بدر

    تاروں بھری پلکوں کی برسائی ہوئی غزلیں

    ہے کون پروئے جو بکھرائی ہوئی غزلیں

    وہ لب ہیں کہ دو مصرعے اور دونوں برابر کے

    زلفیں کہ دل شاعر پر چھائی ہوئی غزلیں

    یہ پھول ہیں یا شعروں نے صورتیں پائی ہیں

    شاخیں ہیں کہ شبنم میں نہلائی ہوئی غزلیں

    خود اپنی ہی آہٹ پر چونکے ہوں ہرن جیسے

    یوں راہ میں ملتی ہیں گھبرائی ہوئی غزلیں

    ان لفظوں کی چادر کو سرکاؤ تو دیکھو گے

    احساس کے گھونگھٹ میں شرمائی ہوئی غزلیں

    اس جان تغزل نے جب بھی کہا کچھ کہئے

    میں بھول گیا اکثر یاد آئی ہوئی غزلیں

    موضوعات

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے