میرے بھی کچھ گلے تھے مگر رات ہو گئی

خالد ملک ساحل

میرے بھی کچھ گلے تھے مگر رات ہو گئی

خالد ملک ساحل

MORE BYخالد ملک ساحل

    میرے بھی کچھ گلے تھے مگر رات ہو گئی

    کچھ تم بھی کہ رہے تھے مگر رات ہو گئی

    دنیا سے دور اپنے برابر کھڑے رہے

    خوابوں میں جاگتے تھے مگر رات ہو گئی

    اعصاب سن رہے تھے تھکاوٹ کی گفتگو

    الجھن تھی مسئلے تھے مگر رات ہو گئی

    آنکھوں کی روشنی میں اندھیرے بکھر گئے

    خیمے سے کچھ جلے تھے مگر رات ہو گئی

    اے دل اے میرے دل یہ سنا ہے کہ شام کو

    گھر سے وہ چل پڑے تھے مگر رات ہو گئی

    ایسی بھی کیا وفا کی کہانی تھی رو پڑے

    کچھ سلسلے چلے تھے مگر رات ہو گئی

    کچھ زینے اختیار کے چڑھنے لگا تھا میں

    کچھ وہ اتر رہے تھے مگر رات ہو گئی

    دشمن کی دوستی نے مسافت سمیٹ لی

    قدموں میں راستے تھے مگر رات ہو گئی

    ساحلؔ فریب فکر ہے دنیا کی داستاں

    کچھ راز کھل چلے تھے مگر رات ہو گئی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY