میرے کشکول میں بس سکۂ رد ہے حد ہے

ندیم سرسوی

میرے کشکول میں بس سکۂ رد ہے حد ہے

ندیم سرسوی

MORE BYندیم سرسوی

    میرے کشکول میں بس سکۂ رد ہے حد ہے

    پھر بھی یہ دل مرا راضی بہ مدد ہے حد ہے

    غم تو ہیں بخت کے بازار میں موجود بہت

    کاسۂ جسم میں دل ایک عدد ہے حد ہے

    آج کے دور کا انسان عجب ہے یا رب

    لب پہ تعریف ہے سینے میں حسد ہے حد ہے

    تھا مری پشت پہ سورج تو یہ احساس ہوا

    مجھ سے اونچا تو مرے سائے کا قد ہے حد ہے

    مستند معتمد دل نہیں اب کوئی یہاں

    محرم راز بھی محروم سند ہے حد ہے

    میں تو تصویر جنوں بن گیا ہوتا لیکن

    مجھ کو روکے ہوئے بس پاس خرد ہے حد ہے

    روز اول ہی میں ہر حد سے گزر بیٹھا اور

    چیختا رہ گیا ہمدم مرا حد ہے حد ہے

    کب تلک خاک بسر بھٹکے بھلا باد صبا

    اب تو ہر شاخ پہ پھولوں کی لحد ہے حد ہے

    رنگ اخلاص بھروں کیسے مراسم میں ندیمؔ

    اس کی نیت بھی مری طرح سے بد ہے حد ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY