مرے خطوں کو جلانے سے کچھ نہیں ہوگا

سیما شرما میرٹھی

مرے خطوں کو جلانے سے کچھ نہیں ہوگا

سیما شرما میرٹھی

MORE BYسیما شرما میرٹھی

    مرے خطوں کو جلانے سے کچھ نہیں ہوگا

    ہوا میں راکھ اڑانے سے کچھ نہیں ہوگا

    سمجھنے والے تو دل کی زباں سمجھتے ہیں

    محبتوں کو جتانے سے کچھ نہیں ہوگا

    ستم ظریفی رہی وقت کی جو دل ٹوٹا

    کسی پہ دوش لگانے سے کچھ نہیں ہوگا

    نئی اڑان کی خاطر پروں کو تول ذرا

    قفس میں شور مچانے سے کچھ نہیں ہوگا

    کوئی تو تیر نشانے پہ ٹھیک سے پہنچے

    ہوا میں تیر چلانے سے کچھ نہیں ہوگا

    نئے گلوں کو کھلاؤ دل زمین پہ تم

    دل یہ کباب بنانے سے کچھ نہیں ہوگا

    نئی امید نئے راستے تلاش کرو

    ہمیشہ مرثیہ گانے سے کچھ نہیں ہوگا

    بدن سے روح نکل بھی چکی ہے اب ہم دم

    فضول اشک بہانے سے کچھ نہیں ہوگا

    زباں سے بات کئی سچ نکل گئی ہو گر

    بہانے لاکھ بنانے سے کچھ نہیں ہوگا

    تمہارے جانے سے پتھر میں ڈھل چکی سیماؔ

    تمہارے لوٹ کے آنے سے کچھ نہیں ہوگا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY