میرے محبوب مرے دل کو جلایا نہ کرو

شوکت پردیسی

میرے محبوب مرے دل کو جلایا نہ کرو

شوکت پردیسی

MORE BYشوکت پردیسی

    میرے محبوب مرے دل کو جلایا نہ کرو

    ساز چھیڑا نہ کرو گیت سنایا نہ کرو

    جاؤ آباد کرو اپنی تمناؤں کو

    مجھ کو محفل کا تماشائی بنایا نہ کرو

    میری راہوں میں جو کانٹے ہیں تو کیوں پھول ملیں

    میرے دامن کو الجھنے دو چھڑایا نہ کرو

    تم نے اچھا ہی کیا ساتھ ہمارا نہ دیا

    بجھ چکے ہیں جو دیے ان کو جلایا نہ کرو

    میرے جیسا کوئی پاگل نہ کہیں مل جائے

    تم کسی موڑ پہ تنہا کبھی جایا نہ کرو

    یہ تو دنیا ہے سبھی قسم کے ہیں لوگ یہاں

    ہر کسی کے لیے تم آنکھ بچھایا نہ کرو

    زہر غم پی کے بھی کچھ لوگ جیا کرتے ہیں

    ان کو چھیڑا نہ کرو ان کو ستایا نہ کرو

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY