میری بے حوصلگی اس سے سوا اور سہی

جمیل الدین عالی

میری بے حوصلگی اس سے سوا اور سہی

جمیل الدین عالی

MORE BYجمیل الدین عالی

    میری بے حوصلگی اس سے سوا اور سہی

    اور چاہو تو محبت کا صلا اور سہی

    یوں بھی کچھ کم تو نہ تھے اتنی بہاروں کے ہجوم

    ان میں شامل ترے دامن کی ہوا اور سہی

    مجھ کو اصرار کہاں ہے کہ محبت جانوں

    آج سے معنی انداز و ادا اور سہی

    طلب درد میں دل حد سے گزرتا کب تھا

    تم نے پوچھا تھا کہ اور اس نے کہا اور سہی

    اب تو ہر شہر میں اس کے ہی قصیدے پڑھیے

    وہ جو پہلے ہی خفا ہے وہ خفا اور سہی

    ہم اسی رحمت و زحمت کے ہیں عادی یا رب

    جیسی بھی ہے اسی دنیا کی فضا اور سہی

    سبق بے گنہی تشنۂ تکمیل بھی تھا

    اک نیا فلسفہ‌‌ٔ جرم و سزا اور سہی

    آج آپ اپنے محاسن کا بیاں کر لیجے

    محفل تذکرۂ اہل وفا اور سہی

    کیا ضروری ہے کہ انداز‌ بہاراں رکھے

    اب جو کچھ اور ہے رفتار صبا اور سہی

    اب بہت شور سہی کل تو کوئی پرکھے گا

    ان صداؤں میں فقیروں کی نوا اور سہی

    کیوں نہ عالیؔ سے علائی پہ غزل لکھوائے

    ایک بیدادگر رنج فزا اور سہی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY