ملتے نہیں ہو ہم سے یہ کیا ہوا وتیرا

پنڈت جواہر ناتھ ساقی

ملتے نہیں ہو ہم سے یہ کیا ہوا وتیرا

پنڈت جواہر ناتھ ساقی

MORE BYپنڈت جواہر ناتھ ساقی

    ملتے نہیں ہو ہم سے یہ کیا ہوا وتیرا

    ملنے لگا ہے شاید اب تم سے کوئی خیرا

    آنکھوں ہی میں اڑایا نقد دل و جگر کو

    وہ شوخ دل ربا ہے کیسا اٹھائی گیرا

    الفت کا جرم بے شک سرزد ہوا ہے ہم سے

    اس کو صغیرہ سمجھو چاہے اسے کبیرا

    میدان حشر تیرا کوچہ بنا ہے قاتل

    جاتا ہے اب جو کوئی آتا ہے قشعریرا

    گرویدہ کر لیا ہے نیرنگئ نظر نے

    کیسی ہوئی فسوں گر وہ شوخ چشم گیرا

    اس شوخ دل ربا پر کیوں کر نہ ہوں فدا ہم

    سج دھج ہوئی نرالی باندھا جو اس نے چیرا

    منت پذیر اس کے آخر کو ہو گئے ہم

    جو مدعا تھا اپنا اس نے کیا پذیرا

    شاغل جو ہو گئے ہیں محمود عاقبت ہیں

    سلطانہ شغل شب ہے دن کا ہوا نصیرا

    تھے شیفتہ جو ساقیؔ اک مست نوش لب کے

    میخانے ہی کے اندر اپنا بنا خطیرا

    مأخذ :
    • کتاب : Kulliyat-e-Saaqi (Pg. e-29 p-26)
    • Author : Pandit Jawahar Nath Saqi
    • مطبع : Pandit Jawahar Nath Saqi (1926)
    • اشاعت : 1926

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے