مری زمیں پہ لگی آپ کے نگر میں لگی

فاطمہ حسن

مری زمیں پہ لگی آپ کے نگر میں لگی

فاطمہ حسن

MORE BYفاطمہ حسن

    مری زمیں پہ لگی آپ کے نگر میں لگی

    لگی ہے آگ جہاں بھی کسی کے گھر میں لگی

    عجیب رقص کہ وحشت کی تال ہے جس میں

    عجیب تال جو آسیب کے اثر میں لگی

    کواڑ بند کہاں منتظر تھے آہٹ کے

    لگی جو دیر تو دہلیز تک سفر میں لگی

    تمام خواب تھے وابستہ اس کے ہونے سے

    سو میری آنکھ بھی بس سایۂ شجر میں لگی

    حصار ذات نہیں تھا طلسم عشق تھا وہ

    خبر ہوئی تو مگر دیر اس خبر میں لگی

    دہکتے رنگ تھے جو آسمان چھوتے تھے

    کھلے تھے پھول کہ اک آگ سی شجر میں لگی

    ادھورے لفظ تھے آواز غیر واضح تھی

    دعا کو پھر بھی نہیں دیر کچھ اثر میں لگی

    پلٹ کے دیکھا تو بس ہجرتیں تھیں دامن میں

    اگرچہ عمر یہاں اک گزر بسر میں لگی

    پرند لوٹ کر آئے تھے کن زمینوں سے

    کہاں کی دھول تھی جو ان کے بال و پر میں لگی

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    فاطمہ حسن

    فاطمہ حسن

    RECITATIONS

    فاطمہ حسن

    فاطمہ حسن

    فاطمہ حسن

    مری زمیں پہ لگی آپ کے نگر میں لگی فاطمہ حسن

    مأخذ :
    • کتاب : yadain bhi ab khwab hoin (Pg. 80)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY