مثال سنگ کھڑا ہے اسی حسیں کی طرح

منیر نیازی

مثال سنگ کھڑا ہے اسی حسیں کی طرح

منیر نیازی

MORE BY منیر نیازی

    مثال سنگ کھڑا ہے اسی حسیں کی طرح

    مکاں کی شکل بھی دیکھو دل مکیں کی طرح

    ملائمت ہے اندھیرے میں اس کی سانسوں سے

    دمک رہی ہیں وہ آنکھیں ہرے نگیں کی طرح

    نواح‌ قریہ ہے سنسان شام سرما میں

    کسی قدیم زمانے کی سر زمیں کی طرح

    زمین دور سے تارا دکھائی دیتی ہے

    رکا ہے اس پہ قمر چشم سیر بیں کی طرح

    فریب دیتی ہے وسعت نظر کی افقوں پر

    ہے کوئی چیز وہاں سحر نیلمیں کی طرح

    منیرؔ عہد ہے اب آخر مسافت کا

    کہ چل رہی ہے ہوا باد واپسیں کی طرح

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Added to your favorites

    Removed from your favorites