مٹاتے جاتے ہیں جو بھی نشاں بناتے ہیں

خورشید طلب

مٹاتے جاتے ہیں جو بھی نشاں بناتے ہیں

خورشید طلب

MORE BYخورشید طلب

    مٹاتے جاتے ہیں جو بھی نشاں بناتے ہیں

    ہم اپنے پیچھے کہاں کارواں بناتے ہیں

    ہم اپنے ہاتھ سے اپنا جہاں بناتے ہیں

    ستارے گڑھتے ہیں اور کہکشاں بناتے ہیں

    مجال کیا جو کسی گل کو چھو لے باد سموم

    ہم اپنے طرز عمل سے خزاں بناتے ہیں

    ہمارے ہاتھ مگر بے گھری ہی لگتی ہے

    زمیں بناتے ہیں ہم آسماں بناتے ہیں

    انہیں سنبھال کے رکھنا ہوا نہ دینا تم

    ہمارے شعر یہ چنگاریاں بناتے ہیں

    یقین رکھو یہ منظر بدلنے والا ہے

    شرار اڑنے سے پہلے دھواں بناتے ہیں

    کنویں سے پیاس کا رشتہ کوئی نیا ہے کیا

    بنانے والے عبث داستاں بناتے ہیں

    نیا بنانے کی دھن میں پتہ نہیں چلتا

    کہاں بگاڑتے ہیں اور کہاں بناتے ہیں

    کسی بزرگ کی صحبت میں بیٹھتے ہیں طلبؔ

    بلا کی دھوپ ہے اب سائباں بناتے ہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY