مٹتے ہوئے نقوش وفا کو ابھارئے

افضل منہاس

مٹتے ہوئے نقوش وفا کو ابھارئے

افضل منہاس

MORE BYافضل منہاس

    مٹتے ہوئے نقوش وفا کو ابھارئے

    چہروں پہ جو سجا ہے ملمع اتارئیے

    ملنا اگر نہیں ہے تو زخموں سے فائدہ

    چھپ کر مجھے خیال کے پتھر نہ ماریے

    کوئی تو سرزنش کے لیے آئے اس طرف

    بیٹھے ہوئے ہیں دل کے مکاں میں جوارئیے

    ہاتھوں پہ ناچتی ہے ابھی موت کی لکیر

    جیسے بھی ہو یہ زیست کی بازی نہ ہاریے

    شکوہ نہ کیجیئے ابھی اپنے نصیب کا

    سانسوں کی تیز آنچ پہ ہر شب گزاریے

    مسمار ہو گئی ہیں فلک بوس چاہتیں

    شہر جفا سے اب نہ مجھے یوں پکاریے

    پھولوں سے تازگی کی حرارت کو چھین کر

    موسم کے زہر کے لیے گلشن سنوارئیے

    رسوائیوں کا ہوگا نہ اب سامنا کبھی

    جلدی سے آرزو کو لحد میں اتارئیے

    افضلؔ یہ تیرگی کے مسافر کہاں چلے

    جی چاہتا ہے ان پہ کئی چاند ماریے

    مآخذ
    • کتاب : auraq salnama magazines (Pg. 509)
    • Author : Wazir Agha,Arif Abdul Mateen
    • مطبع : Daftar Mahnama Auraq Lahore (1967)
    • اشاعت : 1967

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY