محبت غیر سے کی ہے تو میرا مدعا لے لو

مضطر خیرآبادی

محبت غیر سے کی ہے تو میرا مدعا لے لو

مضطر خیرآبادی

MORE BYمضطر خیرآبادی

    محبت غیر سے کی ہے تو میرا مدعا لے لو

    مرے دل پہ گزرتی کیا ہے اس کا بھی مزا لے لو

    جو کہتا ہوں جفائیں چھوڑ دو عہد وفا لے لو

    تو کہتے ہیں خدا سے تم مقدر دوسرا لے لو

    جو پوچھا چھوڑ دوں الفت تو بولے اس سے کیا ہوگا

    جو پوچھا اپنا دل لے لوں تو جھنجھلا کر کہا لے لو

    جناب خضر راہ عشق میں لڑنے سے کیا حاصل

    میں اپنا راستہ لے لوں تم اپنا راستہ لے لو

    شب فرقت جو درد دل سے مضطرؔ دم الجھتا ہے

    قضا کہتی ہے گھبراؤ نہیں مجھ سے دوا لے لو

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY