محبت حاصل دنیا و دیں ہے

رام کرشن مضطر

محبت حاصل دنیا و دیں ہے

رام کرشن مضطر

MORE BYرام کرشن مضطر

    محبت حاصل دنیا و دیں ہے

    محبت روح ارباب یقیں ہے

    نظر میں جھوم اٹھتی ہیں بہاریں

    کسی کی یاد بھی کتنی حسیں ہے

    تصدق ہو رہے ہیں ماہ و انجم

    نگاہوں میں وہی زہرہ جبیں ہے

    کہاں ممکن ہے اس کو بھول جانا

    کہ ہر اک نقش اس کا دل نشیں ہے

    جہاں چاہوں وہیں محفل سجا لوں

    مری ہر اک نظر حسن آفریں ہے

    وہی وہ ہیں جدھر بھی دیکھتا ہوں

    بس اب ان کے سوا کوئی نہیں ہے

    زمانہ ہو گیا اس اک نظر کو

    خلش سی آج تک دل کے قریں ہے

    ہوا ہوں مدتوں سے خود فراموش

    مگر یہ دل تجھے بھولا نہیں ہے

    سہارا مل گیا جینے کا مضطرؔ

    مجھے ان کی محبت کا یقیں ہے

    مأخذ :
    • Raqs-e-bahar

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY