محبت میں نہ جانے کیوں ہمیں فرصت زیادہ ہے

شاہین عباس

محبت میں نہ جانے کیوں ہمیں فرصت زیادہ ہے

شاہین عباس

MORE BY شاہین عباس

    محبت میں نہ جانے کیوں ہمیں فرصت زیادہ ہے

    ہمارا کام تھوڑا ہے مگر مہلت زیادہ ہے

    ہمیں اس عالم ہجراں میں بھی رک رک کے چلنا ہے

    انہیں جانے دیا جائے جنہیں عجلت زیادہ ہے

    یہ دل باہر دھڑکتا ہے یہ آنکھ اندر کو کھلتی ہے

    ہم ایسے مرحلے میں ہیں جہاں زحمت زیادہ ہے

    سو ہم فریادیوں کی ایک اپنی صف الگ سے ہو

    ہمارا مسئلہ یہ ہے ہمیں حیرت زیادہ ہے

    سمجھ پائے نہیں دیکھے بغیر اس کا نظر آنا

    مشقت کم سے کم کی تھی مگر اجرت زیادہ ہے

    تماشا گاہ چاروں سمت سے پر شور ہے یعنی

    کہیں جلوت زیادہ ہے کہیں خلوت زیادہ ہے

    تجھے حلقہ بہ حلقہ کھینچتے پھرتے ہیں دنیا میں

    سو اے زنجیر پا یوں بھی تری شہرت زیادہ ہے

    یہ ساری آمد و رفت ایک جیسی تو نہیں شاہینؔ

    کہ دنیا میں سفر کم کم ہے اور ہجرت زیادہ ہے

    مآخذ:

    • کتاب : shab khuun (rekhta website)(292) (Pg. 59)
    • اشاعت : 2005

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY