مبتلائے عتاب ہیں ہم لوگ

بشیر الدین راز

مبتلائے عتاب ہیں ہم لوگ

بشیر الدین راز

MORE BYبشیر الدین راز

    INTERESTING FACT

    1951 مئی

    مبتلائے عتاب ہیں ہم لوگ

    اک اسیر عذاب ہیں ہم لوگ

    اپنے دل کو عتاب ہیں ہم لوگ

    خود سراسر عذاب ہیں ہم لوگ

    اپنی بربادی اپنے ہاتھوں کی

    کیسے خانہ خراب ہیں ہم لوگ

    اپنا کوئی بھی تو جواب نہیں

    خود ہی اپنے جواب ہیں ہم لوگ

    کاش ناکامیاں ہوں پے در پے

    سمجھو کہ کامیاب ہیں ہم لوگ

    کہہ رہی ہے جنہیں برا دنیا

    وہ ہی خانہ خراب ہیں ہم لوگ

    اپنی منزل سے ہم پلٹ آئے

    ایسے گمراہ جناب ہیں ہم لوگ

    آج دنیا کے سامنے اے رازؔ

    دم بخود لا جواب ہیں ہم لوگ

    مآخذ:

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY