مبتلا خود کو کسی غم میں مسلسل رکھنا

خالد محمود ذکی

مبتلا خود کو کسی غم میں مسلسل رکھنا

خالد محمود ذکی

MORE BYخالد محمود ذکی

    مبتلا خود کو کسی غم میں مسلسل رکھنا

    اور اس غم کو تری آنکھ سے اوجھل رکھنا

    چاند کھڑکی میں کبھی دھوپ میں بادل رکھنا

    دھیان رکھنا جو کسی کا تو ہر اک پل رکھنا

    چلنا سیکھا ہی نہیں راہ سے ہٹ کر ہم نے

    اک قدم اس کی طرف اک سوئے مقتل رکھنا

    دیکھنا ماند نہ پڑ جائیں غم ہجر میں یہ

    تم شب وصل کا ان آنکھوں میں کاجل رکھنا

    اک ذرا بات سے اس جان پہ بن آتی تھی

    راس آیا بھی تو غم سے اسے بوجھل رکھنا

    جس کو کہنا تھا اسی کو نہیں کہنا اور پھر

    کیسے اندیشوں میں خود کو یونہی پاگل رکھنا

    ایسا لگنا کہ یہ آنکھیں تو برستی ہی نہیں

    سیل غم سے مگر اندر کوئی جل تھل رکھنا

    ہم تو اس عرصۂ ہستی میں جھلستے ہی رہے

    نہ ہوا دھوپ میں اک خواب کا بادل رکھنا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے