مدعا جو ذہن سے اٹھا تھا وہ بے جا نہ تھا

ابھنندن پانڈے

مدعا جو ذہن سے اٹھا تھا وہ بے جا نہ تھا

ابھنندن پانڈے

MORE BY ابھنندن پانڈے

    مدعا جو ذہن سے اٹھا تھا وہ بے جا نہ تھا

    دل بہت معصوم تھا دل عقل پروردہ نہ تھا

    میں طلسم روشنی سے کھا رہا تھا کیوں فریب

    دھوپ تھی تو تھا مرا اپنا کوئی سایہ نہ تھا

    جنگلوں نے کر لیا تسلیم جانے کیوں گناہ

    اے جہان نو ترا الزام تک پختہ نہ تھا

    رقص کرتے کرتے اک دن خاک ہو جائیں گے ہم

    رنج فرمائے گا اس درجہ جنوں سوچا نہ تھا

    میں شروع عشق میں حل کرنے والا تھا اسے

    مسئلہ روح و بدن کا اتنا پیچیدہ نہ تھا

    جب یہاں رہنے کے سب اسباب یکجا کر لئے

    تب کھلا مجھ پر کہ میں دنیا کا باشندہ نہ تھا

    رفتہ رفتہ موت کی جانب بڑھا کیوں ہر کوئی

    زندگی میں کیا برا تھا زندگی میں کیا نہ تھا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY