مدت سے جسم برف میں جکڑا ہوا سا ہے

منظر سلیم

مدت سے جسم برف میں جکڑا ہوا سا ہے

منظر سلیم

MORE BYمنظر سلیم

    مدت سے جسم برف میں جکڑا ہوا سا ہے

    ماحول میرے سینے میں بیٹھا ہوا سا ہے

    کہرے میں آنکھ پھوٹ گئی تب خبر ملی

    سورج مری تلاش میں نکلا ہوا سا ہے

    ہر آنکھ مجھ پہ پڑتی ہے تلوار کی طرح

    ہر شخص میرے خوں میں نہایا ہوا سا ہے

    نفرت کے جس پہاڑ کے نیچے کھڑا ہوں میں

    وہ ساری کائنات پہ پھیلا ہوا سا ہے

    گھر میں دھواں بھرا ہے کہ بیٹھوں تو دم گھٹے

    باہر تمام شہر سلگتا ہوا سا ہے

    ہاں میں غنودگی کے دھندلکے میں ہوں اسیر

    ہاں میرا ذہن صدیوں کا جاگا ہوا سا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY