مدتوں بعد شب ماہ اسے دیکھا تھا
مدتوں بعد شب ماہ اسے دیکھا تھا
پر کسی اور کے ہم راہ اسے دیکھا تھا
کیا خبر تھی کہ کہانی کوئی بن جائے گی
میں نے کل بزم میں ناگاہ اسے دیکھا تھا
وصل کی رات ستاروں نے بڑی حسرت سے
گاہ دیکھا تھا مجھے گاہ اسے دیکھا تھا
لوگ اسے ڈھونڈھنے نکلے تو یہ معلوم ہوا
جس نے دیکھا تھا سر راہ اسے دیکھا تھا
آج اک عمر کے بعد اس سے ملا تھا لیکن
اپنے احوال سے آگاہ اسے دیکھا تھا
اس کا کیا ٹھیک کہ لوگوں نے بہ یک وقت جمالؔ
سر مے خانہ و درگاہ اسے دیکھا تھا
Akelepan Ki Intiha
Buy This BookAdditional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.