مجھ میں کوئی مجھ جیسا ہو ایسا بھی ہو سکتا ہے

سید سروش آصف

مجھ میں کوئی مجھ جیسا ہو ایسا بھی ہو سکتا ہے

سید سروش آصف

MORE BYسید سروش آصف

    مجھ میں کوئی مجھ جیسا ہو ایسا بھی ہو سکتا ہے

    یا پھر کوئی اور چھپا ہو ایسا بھی ہو سکتا ہے

    اس کے ہاتھ میں غبارے تھے پھر بھی بچہ گم سم تھا

    وہ غبارے بیچ رہا ہو ایسا بھی ہو سکتا ہے

    ایک رسالہ پڑھتے پڑھتے اس کی آنکھیں بھر آئیں

    اس میں میرا شعر چھپا ہو ایسا بھی ہو سکتا ہے

    امبر بھی نیلا نیلا ہے دریا بھی نیلا نیلا

    ان دونوں نے زہر پیا ہو ایسا بھی ہو سکتا ہے

    صحرا میں جب پیاس لگی تو میری وحشت نے سوچا

    قیس نے خود کا خون پیا ہو ایسا بھی ہو سکتا ہے

    جس کی خاطر بیچ سفر میں اس نے مجھ کو چھوڑا تھا

    وہ بھی اس کو چھوڑ گیا ہو ایسا بھی ہو سکتا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY