مجھ پہ ٹوٹی جو سیہ رات بتانے کی نہیں

یاسمین سحر

مجھ پہ ٹوٹی جو سیہ رات بتانے کی نہیں

یاسمین سحر

MORE BYیاسمین سحر

    مجھ پہ ٹوٹی جو سیہ رات بتانے کی نہیں

    یعنی یہ گردش حالات بتانے کی نہیں

    ہاں مرا حال بھی بالکل ہے تمہارے جیسا

    مان لو بات کہ ہر بات بتانے کی نہیں

    دل کی رگ رگ میں گھلی جائے حلاوت جس کی

    ہائے وہ درد کی سوغات بتانے کی نہیں

    دھوپ کے شہر میں میرے بھی کئی دن گزرے

    سر پہ برسی تھی جو برسات بتانے کی نہیں

    زندگی مست تھی تب اپنی فضاؤں میں مگن

    کھیلی تھی وقت نے جو گھات بتانے کی نہیں

    میں کہانی کو نئے لفظ و معانی دوں گی

    خود پہ گزری ہوئی دن رات بتانے کی نہیں

    وقت نے کی تھی رقم اس گھڑی اک عمدہ مثال

    زندگی تھی جو ترے ساتھ بتانے کی نہیں

    جانے انجانے میں کیا راز ہوئے ہیں افشا

    یوں کھلی مجھ پہ مری ذات بتانے کی نہیں

    ذکر میں لاؤں تو چھن جانے کا خدشہ ہے سحرؔ

    آئی جو شے ہے مرے ہاتھ بتانے کی نہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY