مجھے ایسا لطف عطا کیا کہ جو ہجر تھا نہ وصال تھا

اعتبار ساجد

مجھے ایسا لطف عطا کیا کہ جو ہجر تھا نہ وصال تھا

اعتبار ساجد

MORE BYاعتبار ساجد

    مجھے ایسا لطف عطا کیا کہ جو ہجر تھا نہ وصال تھا

    مرے موسموں کے مزاج داں تجھے میرا کتنا خیال تھا

    کسی اور چہرے کو دیکھ کر تری شکل ذہن میں آ گئی

    ترا نام لے کے ملا اسے میرے حافظے کا یہ حال تھا

    کبھی موسموں کے سراب میں کبھی بام و در کے عذاب میں

    وہاں عمر ہم نے گزار دی جہاں سانس لینا محال تھا

    کبھی تو نے غور نہیں کیا کہ یہ لوگ کیسے اجڑ گئے

    کوئی میرؔ جیسا گرفتہ دل تیرے سامنے کی مثال تھا

    ترے بعد کوئی نہیں ملا جو یہ حال دیکھ کے پوچھتا

    مجھے کس کی آگ جلا گئی مرے دل کو کس کا ملال تھا

    کہیں خون دل سے لکھا تو تھا ترے سال ہجر کا سانحہ

    وہ ادھوری ڈائری کھو گئی وہ نہ جانے کون سا سال تھا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY