مجھے اپنی پستی کی شرم ہے تری رفعتوں کا خیال ہے

اختر شیرانی

مجھے اپنی پستی کی شرم ہے تری رفعتوں کا خیال ہے

اختر شیرانی

MORE BYاختر شیرانی

    مجھے اپنی پستی کی شرم ہے تری رفعتوں کا خیال ہے

    مگر اپنے دل کو میں کیا کروں اسے پھر بھی شوق وصال ہے

    اس ادا سے کون یہ جلوہ گر سر بزم حسن خیال ہے

    جو نفس ہے مست بہار ہے جو نظر ہے غرق جمال ہے

    انہیں ضد ہے عرض وصال سے مجھے شوق عرض وصال ہے

    وہی اب بھی ان کا جواب ہے وہی اب بھی میرا سوال ہے

    تری یاد میں ہوا جب سے گم ترے گم شدہ کا یہ حال ہے

    کہ نہ دور ہے نہ قریب ہے نہ فراق ہے نہ وصال ہے

    تری بزم خلوت لا مکاں ترا آستاں مہ و کہکشاں

    مگر اے ستارۂ آرزو مجھے آرزوئے وصال ہے

    میں وطن میں رہ کے بھی بے وطن کہ نہیں ہے ایک بھی ہم سخن

    ہے کوئی شریک غم و محن تو وہ اک نسیم شمال ہے

    میں بتاؤں واعظ خوش نوا ہے جہان و خلد میں فرق کیا

    یہ اگر فریب خیال ہے وہ فریب حسن خیال ہے

    یہی داد قصۂ غم ملی کہ نظر اٹھی نہ زباں ملی

    فقط اک تبسم شرمگیں مری بے کسی کا مآل ہے

    وہ خوشی نہیں ہے وہ دل نہیں مگر ان کا سایہ سا ہم نشیں

    فقط ایک غم زدہ یاد ہے فقط اک فسردہ خیال ہے

    کہیں کس سے اخترؔ بے نوا ہمیں بزم دہر سے کیا ملا

    وہی ایک ساغر زہر غم جو حریف نوش کمال ہے

    مآخذ:

    • کتاب : Kulliyat-e-Akhtar Shirani (Pg. 223)
    • Author : Akhtar Shirani
    • مطبع : Modern Publishing House, Daryaganj New delhi (1997)
    • اشاعت : 1997

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY