مجھے بے خانما کر کے پشیماں وہ نہ یوں ہوتا

حلیم صابر

مجھے بے خانما کر کے پشیماں وہ نہ یوں ہوتا

حلیم صابر

MORE BYحلیم صابر

    مجھے بے خانما کر کے پشیماں وہ نہ یوں ہوتا

    اگر میری تباہی سے اسے حاصل سکوں ہوتا

    مجھے آسودگی بخشی تھی میری خستہ حالی نے

    مرے ہونٹوں پہ کیوں کر شکوۂ حال زبوں ہوتا

    در منعم پہ جھک کر سرفرازی ہوتی جو حاصل

    میں ایسی سرفرازی کے لئے کیوں سرنگوں ہوتا

    خرد کے سامنے ہوتی نہ رسوائی کبھی اس کی

    اگر جوش جنوں واقف بہ آداب جنوں ہوتا

    وہی ہو کے رہا آخر جو ہونا تھا مرے حق میں

    اب اس پر رنج کیا کرنا کہ یوں ہوتا نہ یوں ہوتا

    اگر میں ساحر فن ہوتا اپنے عہد کا صابر

    اثر انداز لوگوں پر مرے فن کا فسوں ہوتا

    مآخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY