مجھے منظور کاغذ پر نہیں پتھر پہ لکھ دینا

فضا ابن فیضی

مجھے منظور کاغذ پر نہیں پتھر پہ لکھ دینا

فضا ابن فیضی

MORE BYفضا ابن فیضی

    مجھے منظور کاغذ پر نہیں پتھر پہ لکھ دینا

    ہٹا کر مجھ کو تم منظر سے پس منظر پہ لکھ دینا

    خبر مجھ کو نہیں میں جسم ہوں یا کوئی سایا ہوں

    ذرا اس کی وضاحت دھوپ کی چادر پہ لکھ دینا

    اسی کی دید سے محروم جس کو دیکھنا چاہوں

    مری آنکھوں کو اس کے خواب گوں پیکر پہ لکھ دینا

    اسی مٹی کا غمزہ ہیں معارف سب حقائق سب

    جو تم چاہو تو اس جملے کو لوح زر پہ لکھ دینا

    بہت نازک ہیں میرے سرو قامت تیغ زن لوگو

    ہزیمت خوردگی میری صف لشکر پہ لکھ دینا

    کبھی میں بھی اڑانیں بھرنے والا تھا بہت اونچی

    مری پہچان اسی ٹوٹے ہوئے شہپر پہ لکھ دینا

    سرابوں کے سفر سے تو نہیں لوٹا فضاؔ اب تک

    جو خط لکھنا تو اتنی بات اس کے گھر پہ لکھ دینا

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    مجھے منظور کاغذ پر نہیں پتھر پہ لکھ دینا نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY