مجھے مشکل میں یوں اندازۂ مشکل نہیں ہوتا

سید اعجاز احمد رضوی

مجھے مشکل میں یوں اندازۂ مشکل نہیں ہوتا

سید اعجاز احمد رضوی

MORE BYسید اعجاز احمد رضوی

    مجھے مشکل میں یوں اندازۂ مشکل نہیں ہوتا

    کبھی میں کثرت افکار سے بد دل نہیں ہوتا

    اگر ہونا پڑے منت کش امواج بھی مجھ کو

    تو پھر میری خودی کو کچھ غم ساحل نہیں ہوتا

    نہیں کچھ پاس غیرت جس کو اس کا ذکر ہی کیا ہے

    جو غیرت مند ہے وہ در بدر سائل نہیں ہوتا

    جھکا کرتی ہیں وہ شاخیں جو ہوتی ہیں ثمر آور

    وہی ہوتا ہے خود سر جو کسی قابل نہیں ہوتا

    لہو کی تیرے ہر ہر بوند فریادی ہے گو بسمل

    مگر قاتل کے منہ پر شکوۂ قاتل نہیں ہوتا

    دل ناکام پھر لے کام ذوق سعئ پیہم سے

    کف افسوس ملنے سے تو کچھ حاصل نہیں ہوتا

    یقیناً مقصد تخلیق کو سمجھا ہوا ہے وہ

    فرائض سے کبھی جو آدمی غافل نہیں ہوتا

    وہ انساں ہے ملک سجدے گزاریں جس کے دامن پر

    وہ ذرہ کیا جو ہم دوش مہ کامل نہیں ہوتا

    جو روئے دیکھ کر ہر ہر قدم پر پاؤں کے چھالے

    کبھی وہ راہرو آسودۂ منزل نہیں ہوتا

    مرے سوز دروں میری نوا کا فیض ہے رضویؔ

    ترا ہونا تو وجہ گرمئ محفل نہیں ہوتا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY