مجھے پتہ تھا کہ یہ حادثہ بھی ہونا تھا

راجیندر منچندا بانی

مجھے پتہ تھا کہ یہ حادثہ بھی ہونا تھا

راجیندر منچندا بانی

MORE BYراجیندر منچندا بانی

    مجھے پتہ تھا کہ یہ حادثہ بھی ہونا تھا

    میں اس سے مل کے نہ تھا خوش جدا بھی ہونا تھا

    چلو کہ جذبۂ اظہار چیخ میں تو ڈھلا

    کسی طرح اسے آخر ادا بھی ہونا تھا

    بنا رہی تھی عجب چتر ڈوبتی ہوئی شام

    لہو کہیں کہیں شامل مرا بھی ہونا تھا

    عجب سفر تھا کہ ہم راستوں سے کٹتے گئے

    پھر اس کے بعد ہمیں لاپتہ بھی ہونا تھا

    میں تیرے پاس چلا آیا لے کے شکوے گلے

    کہاں خبر تھی کوئی فیصلہ بھی ہونا تھا

    غبار بن کے اڑے تیز رو کہ ان کے لیے

    تو کیا ضرور کوئی راستہ بھی ہونا تھا

    سرائے پر تھا دھواں جمع ساری بستی کا

    کچھ اس طرح کہ کوئی سانحہ بھی ہونا تھا

    مجھے ذرا سا گماں بھی نہ تھا اکیلا ہوں

    کہ دشمنوں کا کہیں سامنا بھی ہونا تھا

    مأخذ :
    • کتاب : Kulliyat-e-bani (Pg. 61)
    • کتاب : Kulliyat-e-bani (Pg. 261)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY