مجھے تو جو بھی ملا ہے عذاب کی صورت

لئیق عاجز

مجھے تو جو بھی ملا ہے عذاب کی صورت

لئیق عاجز

MORE BYلئیق عاجز

    مجھے تو جو بھی ملا ہے عذاب کی صورت

    مری حیات ہے اک تشنہ خواب کی صورت

    ہواؤ دل کی طرف احتیاط سے جانا

    وجود امن کا ہے قائم حباب کی صورت

    ملامتیں غم و آلام فکر مایوسی

    یہ زندگی ہے شکستہ کتاب کی صورت

    خود اپنی کرگسی فطرت سے ہو گئے رسوا

    وگرنہ تم بھی اٹھے تھے عقاب کی صورت

    کبھی فلک تو سمندر کبھی اٹھا لایا

    پسند دونوں کو ہے آفتاب کی صورت

    شگفتگی کی جگہ جھریوں نے لے لی ہے

    ہمارا چہرہ تھا عاجزؔ گلاب کی صورت

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY