ممکن نہ تھی جو بات وہی بات ہو گئی

اسرار اکبر آبادی

ممکن نہ تھی جو بات وہی بات ہو گئی

اسرار اکبر آبادی

MORE BYاسرار اکبر آبادی

    ممکن نہ تھی جو بات وہی بات ہو گئی

    دریا مجھے ملا تو مری پیاس کھو گئی

    جب تک تمہارا ذکر رہا جاگتی رہی

    پھر وہ حسین رات بھی محفل میں سو گئی

    سایا تمہاری یاد کا اب میرے ساتھ ہے

    دنیا تو اک ندی تھی سمندر میں کھو گئی

    تیرا خیال آیا تو محسوس یہ ہوا

    خوشبو ترے بدن کی مرے ساتھ ہو گئی

    شاید یہ رات آپ سے ملنے کی رات ہے

    خوش رنگ چاندنی در و دیوار دھو گئی

    تیرے حسیں خیال کی خوشبو فضا میں تھی

    بارش گلاب جل کی ہمیں بھی بھگو گئی

    اسرارؔ ان کے غم نے بھی روشن کئے چراغ

    پلکوں میں اک خوشی بھی ستارے پرو گئی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے