منافع مشترک ہے اور خسارے ایک جیسے ہیں

سرفراز شاہد

منافع مشترک ہے اور خسارے ایک جیسے ہیں

سرفراز شاہد

MORE BY سرفراز شاہد

    منافع مشترک ہے اور خسارے ایک جیسے ہیں

    کہ ہم دونوں کی قسمت کے ستارے ایک جیسے ہیں

    میں اک چھوٹا سا افسر ہوں وہ اک موٹا سا ''مل اونر''

    مگر دونوں کے انکم گوشوارے ایک جیسے ہیں

    اسے ضعف بصیرت اسے ضعف بصارت ہے

    ہمارے دیدہ ور سارے کے سارے ایک جیسے ہیں

    مٹن اور دال کی قیمت برابر ہو گئی جب سے

    یقیں آیا کہ دونوں میں ''حرارے'' ایک جیسے ہیں

    جہاں بھر کے سیاسی دنگلوں میں ہم نے دیکھا ہے

    ''انوکی'' اک سے اک اونچا ہے جھارے ایک جیسے ہیں

    وہ تھانہ ہو شفا خانہ ہو یا پھر ڈاک خانہ ہو

    رفاہ عام کے سارے ادارے ایک جیسے ہیں

    سرور جاں فزا دیتی ہے آغوش وطن سب کو

    کہ جیسے بھی ہوں بچے ماں کو پیارے ایک جیسے ہیں

    بلا کا فرق ہے لندن کی گوری اور کالی میں

    مگر دونوں کی آنکھوں میں اشارے ایک جیسے ہیں

    ہر اک بیگم اگرچہ منفرد ہے اپنی سج دھج میں

    مگر جتنے بھی شوہر ہیں بچارے ایک جیسے ہیں

    کوئی خوش ذوق ہی شاہدؔ یہ نکتہ جان سکتا ہے

    کہ میرے شعر اور نخرے تمہارے ایک جیسے ہیں

    گماں ہوتا ہے شاہدؔ ریڈیو پر سن کے موسیقی

    کہ پکے راگ اور نمکیں غرارے ایک جیسے ہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY