منہدم ہوتی ہوئی آبادیوں میں فرصت یک خواب ہوتے

ثروت حسین

منہدم ہوتی ہوئی آبادیوں میں فرصت یک خواب ہوتے

ثروت حسین

MORE BY ثروت حسین

    منہدم ہوتی ہوئی آبادیوں میں فرصت یک خواب ہوتے

    ہم بھی اپنے خشت زاروں کے لیے آسودگی کا باب ہوتے

    شہر آزردہ فضا میں آبگینوں کو بروئے کار لاتے

    شام کی ان خانماں ویرانیوں میں صحبت احباب ہوتے

    تازہ و غم ناک رکھتے آس اور امید کی سب کونپلوں کو

    اور پھر ہم راہیٔ باد شبانہ کے لیے مہتاب ہوتے

    خود کلامی کے بھنور میں ڈوبتی پرچھائیں بن کر رہ گئے ہیں

    اس اندھیری رات میں گھر سے نکلتے تو ستارہ یاب ہوتے

    خاک آلودہ زمانوں پر برستی جھومتی کالی گھٹائیں

    موسموں کی آب و خاک آرائیوں سے آئنے سیراب ہوتے

    مآخذ:

    • کتاب : Azkar (Pg. 128)
    • Author : Amjad Hussain Hafiz Karnataki
    • مطبع : Karnataka Urdu Academy (issue:23 April,May,June-2013)
    • اشاعت : issue:23 April,May,June-2013

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY