مستقل دید کی یہ شکل نظر آئی ہے

رام کرشن مضطر

مستقل دید کی یہ شکل نظر آئی ہے

رام کرشن مضطر

MORE BYرام کرشن مضطر

    مستقل دید کی یہ شکل نظر آئی ہے

    دل میں اب آپ کی تصویر اتر آئی ہے

    تو نے کس لطف سے چھیڑا ہے انہیں موج نسیم

    جھوم کر زلف سیہ تا بہ کمر آئی ہے

    کہہ رہے ہیں تری آنکھوں کے بدلتے تیور

    یہ ہنسی آج بہ انداز دگر آئی ہے

    زندگی ناچ کہ وہ جان چمن جان بہار

    دست رنگیں میں لئے ساغر زر آئی ہے

    دل ہو مسرور کہ آغوش خزاں دیدہ میں پھر

    لہلہاتی ہوئی شاخ گل تر آئی ہے

    وہ ز سر تا بہ قدم حسن کی اک آب لئے

    جگمگاتی ہوئی مانند گہر آئی ہے

    ہو نہ حیراں کہ اندھیرے ہیں اجالوں کی دلیل

    شام کے بعد ہی اے دوست سحر آئی ہے

    بن کے غرقاب سفینے کی مچلتی ہوئی یاد

    سینۂ بحر پہ اک موج ابھر آئی ہے

    کرم رہبر صادق کے نثار اے مضطرؔ

    زندگی سخت مراحل سے گزر آئی ہے

    مآخذ
    • Raqs-e-bahar

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY