نہ اپنا نام نہ چہرہ بدل کے آیا ہوں

اکبر معصوم

نہ اپنا نام نہ چہرہ بدل کے آیا ہوں

اکبر معصوم

MORE BYاکبر معصوم

    نہ اپنا نام نہ چہرہ بدل کے آیا ہوں

    کہ اب کی بار میں رستہ بدل کے آیا ہوں

    وہ اور ہوں گے جو کار ہوس پہ زندہ ہیں

    میں اس کی دھوپ سے سایہ بدل کے آیا ہوں

    ذرا بھی فرق نہ پڑتا مکاں بدلنے سے

    وہ بام و در وہ دریچہ بدل کے آیا ہوں

    مجھے خبر ہے کہ دنیا بدل نہیں سکتی

    اسی لیے تو میں چشمہ بدل کے آیا ہوں

    وہی سلوک وہی بھیک چاہتا ہوں میں

    وہی فقیر ہوں کاسہ بدل کے آیا ہوں

    مجھے بتاؤ کوئی کام پھر سے کرنے کا

    میں اپنا خون پسینہ بدل کے آیا ہوں

    میں ہو گیا ہوں کسی نیند کا شراکت دار

    میں اک حسین کا تکیہ بدل کے آیا ہوں

    سنو کہ جونک لگائی ہے میں نے پتھر میں

    میں اک نگاہ کا شیشہ بدل کے آیا ہوں

    مرا طریقہ مرا کھیل ہی نرالا ہے

    نہ میں زبان نہ لہجہ بدل کے آیا ہوں

    وہی اسیر ہوں اور ہے مری وہی اوقات

    میں اس جہان میں پنجرہ بدل کے آیا ہوں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY