نہ دامنوں میں یہاں خاک رہ گزر باندھو

فضا ابن فیضی

نہ دامنوں میں یہاں خاک رہ گزر باندھو

فضا ابن فیضی

MORE BYفضا ابن فیضی

    نہ دامنوں میں یہاں خاک رہ گزر باندھو

    مثال نکہت گل محمل سفر باندھو

    اس آئنہ میں کوئی عکس یوں نہ ابھرے گا

    نظر سے سلسلۂ دانش نظر باندھو

    جو صاحبان بصیرت تھے بے لباس ہوئے

    فضیلتوں کی یہ دستار کس کے سر باندھو

    سفیر جاں ہوں حصار بدن میں کیا ٹھہروں

    چمن پرستو نہ خوشبو کے بال و پر باندھو

    نہ ٹوٹ جائے کہ نازک ہے رشتۂ انفاس

    طناب خیمۂ ہستی سنبھال کر باندھو

    کہاں ہر ایک شناور گہر بکف نکلا

    سمندروں سے توقع نہ اس قدر باندھو

    ہر ایک ہاتھ میں ہے سنگ صد ہزار آشوب

    پھر ایسے وقت میں شاخوں سے کیوں ثمر باندھو

    نمک چھڑکتے رہو یہ بھی ہے مسیحائی

    یہ کیا ضروری کہ مرہم ہی زخم پر باندھو

    پھرے ہے کب سے پریشاں یہ زخم خوردہ ہرن

    جنوں کو دشت سے لے جا کے اپنے گھر باندھو

    گیا وہ دور کہ جب برف برف تھے الفاظ

    گرہ میں اب یہ دہکتے ہوئے شرر باندھو

    ادب نہیں ہے ریاضی کا مسئلہ یارو

    ہر ایک شخص پہ کیوں تہمت ہنر باندھو

    یہ صنف آبروئے‌ فن شاعری ہے فضاؔ

    غزل کہو تو مضامین معتبر باندھو

    مآخذ:

    • کتاب : siip (Magzin) (Pg. 225)
    • Author : Nasiim Durraani
    • مطبع : Fikr-e-Nau (1979)
    • اشاعت : 39 (quarterly)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY