نہ کم ہوا ہے نہ ہو سوز اضطراب دروں

مخمور سعیدی

نہ کم ہوا ہے نہ ہو سوز اضطراب دروں

مخمور سعیدی

MORE BYمخمور سعیدی

    نہ کم ہوا ہے نہ ہو سوز اضطراب دروں

    ترے قریب رہوں میں کہ تجھ سے دور رہوں

    کہیں کوئی ترا محرم ہے اے دل محزوں

    مجھے بتا کہ کدھر جاؤں کس سے بات کروں

    تری نظر نے بہت کچھ سکھا دیا دل کو

    کچھ اتنا سہل نہ تھا ورنہ کاروبار جنوں

    پکارتی ہیں مجھے وسعتیں دو عالم کی

    میں اپنے آپ سے دامن چھڑا سکوں تو چلوں

    تری وفا نہ مجھے راس آ سکی لیکن

    میں سوچتا ہوں تجھے کیسے بے وفا کہہ دوں

    مری شکستہ دلی کا نہ کر خیال اتنا

    کہیں نہ میں ترے خوابوں میں تلخیاں بھر دوں

    گرفت عصر رواں اس قدر تو مہلت دے

    کہ مٹ رہی ہے جو دنیا اسے میں دیکھ تو لوں

    یہ کس خیال نے کی ہے مری زباں بندی

    تجھی سے کہنے کی باتیں تجھی سے کہہ نہ سکوں

    وہ اضطراب طلب تھا کسی توقع پر

    اب اٹھ چکی ہے توقع اب آ چلا ہے سکوں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY