نہ محفل ایسی ہوتی ہے نہ خلوت ایسی ہوتی ہے

شاذ تمکنت

نہ محفل ایسی ہوتی ہے نہ خلوت ایسی ہوتی ہے

شاذ تمکنت

MORE BYشاذ تمکنت

    نہ محفل ایسی ہوتی ہے نہ خلوت ایسی ہوتی ہے

    مرے معبود کیا جینے کی صورت ایسی ہوتی ہے

    بس اک کیفیت خود رفتگی تنہائیاں اپنی

    ہمیں ملتی ہے فرصت بھی تو فرصت ایسی ہوتی ہے

    یہ دنیا سر بسر رنگینیوں میں ڈوب جاتی ہے

    تری قامت کی ہر شے میں شباہت ایسی ہوتی ہے

    در و دیوار پر بس ایک سناٹے کی رونق ہے

    مرے مہماں سے پوچھو گھر کی جنت ایسی ہوتی ہے

    کہاں اپنی سیہ کاری کہاں یہ تیری معصومی

    تجھے دیکھا نہیں جاتا ندامت ایسی ہوتی ہے

    کوئی دیکھے تجھے تو از سر نو زندگی مانگے

    روایت جھوٹ ہے قاتل کی صورت ایسی ہوتی ہے

    یہ مجبوری، محبت بھیک جیسی بھی گوارا ہے

    کبھی دن رات کو تیری ضرورت ایسی ہوتی ہے

    بچھڑ کر تجھ سے ملنے کی مسرت بھول جاتا ہوں

    کہ مل کر پھر بچھڑنے کی اذیت ایسی ہوتی ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY