نہ میں دریا نہ مجھ میں زعم کوئی بیکرانی کا

خورشید طلب

نہ میں دریا نہ مجھ میں زعم کوئی بیکرانی کا

خورشید طلب

MORE BYخورشید طلب

    نہ میں دریا نہ مجھ میں زعم کوئی بیکرانی کا

    کہ میں ہوں بلبلے کی شکل میں احساس پانی کا

    محبت میں تری اپنی زباں کو سی لیا میں نے

    اثر زائل نہ ہو جائے تری جادو بیانی کا

    عجب کیا ہے جو میری داستان خونچکاں سے بھی

    کوئی پہلو نکل آئے کسی کی شادمانی کا

    میں اپنے پاؤں کی زنجیر اک دن خود ہی کاٹوں گا

    ہدف بننا نہیں مجھ کو کسی کی مہربانی کا

    تمہارے سامنے آؤں تمہیں اپنی صفائی دوں

    سبب معلوم ہو تب نا تمہاری بد گمانی کا

    مرا سینہ ہزاروں چیختی روحوں کا مسکن ہے

    وسیلہ ہوں میں گونگی حسرتوں کی ترجمانی کا

    ہمارا عہد بھی لکھے الف لیلیٰ کے جیسا کچھ

    بدلنا چاہیئے اب رنگ کچھ قصہ کہانی کا

    نہیں تیرے لیے یہ دو منٹ کی چپ نہیں کافی

    ترا غم مستحق ہے عمر بھی کی نوحہ خوانی کا

    مری تائید میں بھی اب کسی کا ہونٹ تو کانپے

    کوئی تو درد بانٹے آئے میری بے زبانی کا

    RECITATIONS

    خورشید طلب

    خورشید طلب

    خورشید طلب

    نہ میں دریا نہ مجھ میں زعم کوئی بیکرانی کا خورشید طلب

    مآخذ
    • کتاب : Jahaan Gard (Pg. 31)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY