نہ میں سمجھا نہ آپ آئے کہیں سے

انور دہلوی

نہ میں سمجھا نہ آپ آئے کہیں سے

انور دہلوی

MORE BYانور دہلوی

    نہ میں سمجھا نہ آپ آئے کہیں سے

    پسینہ پوچھیے اپنی جبیں سے

    چلی آتی ہے ہونٹوں پر شکایت

    ندامت ٹپکی پڑتی ہے جبیں سے

    اگر سچ ہے حسینوں میں تلون

    تو ہے امید وصل ان کی نہیں سے

    کہاں کی دل لگی کیسی محبت

    مجھے اک لاگ ہے جان حزیں سے

    ادھر لاؤ ذرا دست حنائی

    پکڑ دیں چور دل کا ہم یہیں سے

    جنوں میں اس غضب کی خاک اڑائی

    بنایا آسماں ہم نے زمیں سے

    وہاں عاشق کشی ہے عین ایماں

    انہیں کیا بحث انورؔ کفر و دیں سے

    مآخذ:

    • کتاب : غزل اس نے چھیڑی (Pg. 128)
    • Author : فرحت احساس
    • مطبع : ریختہ بکس بی۔37،سیکٹر۔1،نوئیڈا (2017)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY