نہ شام ہے نہ سویرا عجب دیار میں ہوں

اطہر نفیس

نہ شام ہے نہ سویرا عجب دیار میں ہوں

اطہر نفیس

MORE BYاطہر نفیس

    نہ شام ہے نہ سویرا عجب دیار میں ہوں

    میں ایک عرصہء بے رنگ کے حصار میں ہوں

    سپاہ غیر نے کب مجھ کو زخم زخم کیا

    میں آپ اپنی ہی سانسوں کے کار زار میں ہوں

    کشاں کشاں جسے لے جائیں گے سر مقتل

    مجھے خبر ہے کہ میں بھی اسی قطار میں ہوں

    شرف ملا ہے کہاں تیری ہمرہی کا مجھے

    تو شہسوار ہے اور میں تیرے غبار میں ہوں

    اتا پتا کسی خوشبو سے پوچھ لو میرا

    یہیں کہیں کسی منظر کسی بہار میں ہوں

    میں خشک پیڑ نہیں ہوں کہ ٹوٹ کر گر جاؤں

    نمو پزیر ہوں اور سرو شاخسار میں ہوں

    نہ جانے کون سے موسم میں پھول مہکیں گے

    نہ جانے کب سے تری چشم انتظار میں ہوں

    ہوا ہوں قریۂ جاں میں کچھ اس طرح پامال

    کہ سر بلند ترے شہر زر نگار میں ہوں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY