نہ تو گندھ ہوں کسی پھول کی نہ ہی پھول ہوں کسی باغ کا

شیو کمار بلگرامی

نہ تو گندھ ہوں کسی پھول کی نہ ہی پھول ہوں کسی باغ کا

شیو کمار بلگرامی

MORE BYشیو کمار بلگرامی

    نہ تو گندھ ہوں کسی پھول کی نہ ہی پھول ہوں کسی باغ کا

    کسی آنکھ کو جو نہ بھا سکا وہ اجاڑ ہوں کسی راغ کا

    مرے اشک سے مرے درد سے نہیں واسطہ ہے جہان کو

    نہ تو اشک ہوں کسی میرؔ کا نہ ہی درد ہوں کسی داغؔ کا

    جو جلا کرے تو جلا کرے جو بجھا رہے تو بجھا رہے

    کسی اور کو نہ سنائی دے وہی درد ہوں میں چراغ کا

    نہ تو یاد ہوں کوئی پر کشش نہ ہی خواب ہوں کوئی خوش نما

    دل شاد کو جو کرے دکھی وہ خیال ہوں میں دماغ کا

    نہ تو پیاس ہوں میں شراب کی نہ ہی گھونٹ ہوں میں شراب کا

    بجھی پیاس جو نہ جگا سکے وہی گھونٹ ہوں میں ایاغ کا

    مآخذ
    • کتاب : Nai Kahkashan (Pg. 38)
    • Author : Shivkumar Bilagrami
    • مطبع : Amrit Prakashan (2015)
    • اشاعت : 2015

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY