Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

نالوں سے اگر میں نے کبھی کام لیا ہے

وحشت کلکتوی

نالوں سے اگر میں نے کبھی کام لیا ہے

وحشت کلکتوی

MORE BYوحشت کلکتوی

    نالوں سے اگر میں نے کبھی کام لیا ہے

    خود ہی اثر نالہ سے دل تھام لیا ہے

    آزادئ اندوہ فزا سے ہے رہائی

    اب میں نے کچھ آرام تہ دام لیا ہے

    اٹھتی تھیں امنگیں انہیں بڑھنے نہ دیا پھر

    میں نے دل ناکام سے اک کام لیا ہے

    جز مشغلۂ نالہ و فریاد نہ تھا کچھ

    جو کام کہ دل سے سحر و شام لیا ہے

    خود پوچھ لو تم اپنی نگاہوں سے وہ کیا تھا

    جو تم نے دیا میں نے وہ پیغام لیا ہے

    تھا تیرا اشارا کہ نہ تھا میں نے دیا دل

    اور اپنے ہی سر جرم کا الزام لیا ہے

    غم کیسے غلط کرتے جدائی میں تری ہم

    ڈھونڈا ہے تجھے ہاتھ میں جب جام لیا ہے

    آرام کے اب نام سے میں ڈرنے لگا ہوں

    تکلیف اٹھائی ہے جب آرام لیا ہے

    معلوم نہیں خوب ہے جو واقف فن ہیں

    وحشتؔ نے محاکات سے کیا کام لیا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے