نام تیرا بھی رہے گا نہ ستم گر باقی

انیس انصاری

نام تیرا بھی رہے گا نہ ستم گر باقی

انیس انصاری

MORE BYانیس انصاری

    INTERESTING FACT

    26جنوری 2007لکھنؤ

    نام تیرا بھی رہے گا نہ ستم گر باقی

    جب ہے فرعون نہ چنگیز کا لشکر باقی

    اپنے چہروں کو سیاہی میں چھپانے والو

    نوک نیزہ پہ ہے سورج سا کوئی سر باقی

    تیرے ورثے پہ ہیں غاصب کی عقابی نظریں

    غفلتوں سے نہیں رہتے یہ جواہر باقی

    اک صدف سطح سمندر پہ بہا جاتا ہے

    اور ساحل پہ نہیں ایک شناور باقی

    ایک صف ہوں تو بنیں سیسہ پلائی دیوار

    ہوں عدو کے لئے راہیں نہ کہیں در باقی

    قدر کم ہوتی ہے تقسیم جو ہوتا ہے عدو

    حاصل جمع میں برکت ہے برابر باقی

    جال پھر لایا ہے صیاد پھنسانے کے لئے

    مل کے اڑ جائیں پرندے نہ رہے ڈر باقی

    ظلم سے سر کو نہ ٹکرائیں تو پھر سجدہ کریں

    ہاں پتہ ہے کہ در ہوگا نہ کہیں سر باقی

    ہم شہیدوں کو کبھی مردہ نہیں کہتے انیسؔ

    رزق جنت میں ملے شان یہاں پر باقی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY