نہیں جاتی اگر یہ آسماں تک

اسحاق وردگ

نہیں جاتی اگر یہ آسماں تک

اسحاق وردگ

MORE BY اسحاق وردگ

    نہیں جاتی اگر یہ آسماں تک

    تو پھر اس چیخ کی حد ہے کہاں تک

    چلو پانی سے وہ شعلہ نکالیں

    اٹھائے جو زمیں کو آسماں تک

    اب اگلے موڑ پر پاتال ہوگا

    یقیں سے آ گیا ہوں میں گماں تک

    زمانے کو سمجھ پایا نہیں ہوں

    میں سمجھاتا رہوں خود کو کہاں تک

    عجب اک کھیل کھیلا جا رہا ہے

    نہ تھا جس کا ہمیں کوئی گماں تک

    بہت ہی خوب صورت راستہ ہے

    جو سیدھا جا رہا ہے رائیگاں تک

    زمیں کے باب میں کچھ مشورے ہیں

    ذرا میں جا رہا ہوں آسماں تک

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY