نہیں شریک عذابوں کا جان جاں کوئی

محمد اسد اللہ

نہیں شریک عذابوں کا جان جاں کوئی

محمد اسد اللہ

MORE BY محمد اسد اللہ

    نہیں شریک عذابوں کا جان جاں کوئی

    خدا گواہ نہیں ہے نہیں یہاں کوئی

    وہ دیکھو بانہہ پسارے ہے سامنے منزل

    فقط گماں ہے کہ ہے راہ درمیاں کوئی

    چبھن سی کیسے پرو دی ہے اس نے سانسوں میں

    شکایتوں میں نمایاں ہے مہرباں کوئی

    عنایتیں ہیں تری دھوپ سرد موسم کی

    بڑھے جو حد سے تو بیٹھے بھلا کہاں کوئی

    رہا وہ گوش بر آواز اور ہمیں برسوں

    خیال تک نہیں آ یا کہ ہے یہاں کوئی

    سوائے حلقۂ یاراں میں اپنی شہرت کے

    ہماری ذات کا دشمن یہاں کہاں کوئی

    ہر ایک سمت خموشی کا کفر چھایا ہے

    ہماری ذات کے صحرا میں دے اذاں کوئی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY